کروڑہا انسانوں کو طرح طرح کی بولیاں عطاؔ کرکے دوسرے لوگوں کے لئے عام تعلیم کا دروازہ کھول دیا ہے۔ تو اس صورت میں بجز اس صورت خاص کے کہ جس میں کوئی نشان ظاہر کرنا منظور ہو اور سب صورتوں میں بطور الہام چار طور پر فیضان پایا جاتا ہے۔ جو غور کرنے سے ہریک عاقل اس کو سمجھ سکتا ہے۔ پہلا فیضان فیضان اعم ہے۔ یہ وہ فیضان مطلق ہے کہ جو بلاتمیز ذی روح و غیر ذی روح افلاک سے لے کر خاک تک تمام چیزوں پر علی الاتصال جاری ہے اور ہریک چیز کا عدم سے صورت وجود پکڑنا اور پھر وجود کا حد کمال تک پہنچنا اسی فیضان کے ذریعہ سے ہے۔ اور کوئی چیز جاندار ہو یا غیر جاندارؔ اس سے باہر نہیں۔ اسی سے وجود تمام ارواح و اجسام ظہور پذیر ہوا اور ہوتا ہے اور ہریک چیز نے پرورش پائی اور پاتی ہے۔ یہی فیضان تمام کائنات کی جان ہے اگر ایک لمحہ منقطع ہوجائے۔ تو تمام عالم نابود ہوجائے۔ اور اگر نہ ہوتا۔ تو مخلوقات میں سے کچھ بھی نہ ہوتا۔ اس کا نام قرآن شریف میں ربوبیت ہے۔ اور اسی کی رو سے خدا کا نام رب العالمین ہے۔ جیسا کہ اس نے دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔ 3 ۱؂ الجزو نمبر ۸۔ یعنی خدا ہریک چیز کا رب ہے۔ اور کوئی چیز عالم کی چیزوں میں سے اس کی ربوبیت میں سے باہر نہیں سو خدا نے سورۃ فاتحہ میں سب صفات فیضانی میں سے پہلے صفت رب العالمین کو بیان فرمایا۔ اور کہا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ یہ اس لئے کہا کہ سب فیضانی صفتوں میں سے تقدم طبعی صفت ربوبیت کو حاصل ہے یعنی ظہور کے رو سے بھی صفت مقدم الظہور اور تمام صفات فیضانی سے اعم ہے کیونکہ ہریک چیز پر خواہ جاندار ہو خواہ غیرجاندار مشتمل ہے۔ پھر دوسرا قسم فیضان کا جو دوسرے مرتبہ پر واقعہ ہے فیضان عام ہے۔ اس میں رو سے اس کی صفات کا بے مثل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے وجود کا پتہ لگتا ہے۔ اس کا منزّہ اور مقدّس ہونا مانا جاتا ہے۔ اس کی وحدانیت پھیلتی ہے اس کی گم گشتہ توحید پھر قائم ہوتی ہےؔ ۔ اسی کتاب سے آپ لوگ مونہہ پھیرتے ہیں۔ بدقسمتی ہے یا نہیں؟