مایحتاج کا آپ بندوبست کرتا۔ لیکن اس کی اولاد کے لئے یہؔ ضرورت پیش نہیں آئی کیونکہ اب کروڑہا انسان مختلف بولیاں بولتے اور اپنے بچوں کو سکھاتے ہیں۔ ماسوا اس کے جیسا کہ ہم نے ابھی اوپر بیان کیا ہے۔ ذاتی قابلیّت بھی کہ
تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان دیا نہ جائے گا اور اس کے مصلوب ہونے کے وقت بھی یہودیوں نے کہا کہ اگر وہ اب ہمارے روبرو زندہ ہوجائے تو ہم ایمان لائیں گے۔ لیکن اس نے ان کو زندہ ہوکر نہ دکھلایا اور اپنی خدائی اور قدرت کاملہ کا ایکؔ ذرہ ثبوت نہ دیا۔ اور اگر بعض معجزات بھی دکھلائے تو وہ دکھلائے کہ اس سے پہلے اور نبی بکثرت دکھلا چکے تھے بلکہ اسی زمانہ میں ایک حوض کے پانی سے بھی ایسے ہی عجائبات ظہور میں آتے تھے(دیکھو باب پنجم انجیل یوحنا) غرض وہ اپنے خدا ہونے کا کوئی نشان دکھلا نہ سکا جیسا کہ آیت مذکورہ بالا میں خود اس کا اقرار موجود ہے بلکہ ایک ضعیفہ عاجزہ کے پیٹ سے تولد پاکر(بقول عیسائیوں) وہ ذلت اور رسوائی اور ناتوانی اور خواری عمر بھی دیکھی کہ جو انسانوں میں سے وہ انسان دیکھتے ہیں کہ جو بدقسمت اور بے نصیب کہلاتے ہیں۔ اور پھر مدت تک ظلمت خانہ رحم میں قید رہ کر اور اس ناپاک راہ سے کہ جو پیشاب کی بد ررو ہے پیدا ہوکر ہریک قسم کی آلودہ حالت کو اپنے اوپر وارد کرلیا اور بشری آلودگیوں اور نقصانوں میں سے کوئی ایسی آلودگی باقی نہ رہی جس سے وہ بیٹا باپ کا بدنام کنندہ ملوث نہ ہو اور پھر اس نے اپنی جہالت اور بے علمی اور بے قدرتی اور نیز اپنے نیک نہ ہونے کا اپنی کتاب میں آپ ہی اقرار کرلیا اور پھر در صورتیکہ وہ عاجز بندہ کہ خواہ نخواہ خدا کا بیٹا قرار دیا گیا بعض بزرگ نبیوں سے فضائل علمی اور عملی میں کم بھی تھا۔ اور اس کی تعلیم بھی ایک ناقص تعلیم تھی کہ جو موسیٰ کی شریعت کی ایک فرع تھی تو پھر کیونکر جائز ہے
نے آپ کو کہاں سے کہاں تک پُہنچایا اور ابھی ٹھہرئیے اسی پر ختم نہیں آپ کے اس اعتقاد سے تو خدا کی ہستی کی بھی خیر نظر نہیں آتی۔ کیونکہ جیسا ہم پہلے لکھ چکے ہیں بڑا بھاری