ہریک بچہ کے لئے اسؔ کے والدین بولی سکھانے کے لئے رفیق شفیق نکل آئے۔ مگر آدم کے لئے بجز ایک خدا کے اور کوئی نہ تھا جو اسکو بولی سکھاتا اور ادب انسانیت اور قدرت اس کی ذات کامل میں موجود ہو اور پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہو یا یہ باتیں اس کی شان کے لائق ہیں کہ جس قدر مخلوقات اس کے قبضۂ تصرف میں ہیں یہ چیزیں اس کی مخلوق نہیں ہیں اور نہ اس کے سہارے سے اپنا وجود رکھتی ہیں اور نہ اپنے وجود اور بقا میں اس کی محتاج ہیں اور نہ وہ ان کا خالق اور رب ہے اور نہ خالقیت کی صفت اور قدرت اس میں پائی جاتی ہے اور نہ پیدائش اور موت کے نقصان سے پاک ہے۔ تو ہرگز عقل یہ فتویٰ نہیں دیتی کہ وہ جو دنیا کا مالک ہے وہ دنیا کا پیدا کنندہ نہیں اور ہزاروں ُ پرحکمت صفتیں کہ جو روحوں اور جسموں میں پائی جاتی ہیں وہ خودبخود ہیں اور ان کا بنانے والا کوئی نہیں اور خدا جو ان سب چیزوں کا مالک کہلاتا ہے وہ فرضی طور پر مالک ہے اور نہ یہ فتویٰ دیتی ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے عاجز سمجھا جاوے یا ناطاقت اور ناقص ٹھہرایا جاوے یا پلیدی اور نجاست خواری کی نالائق اور قبیح عادت کو اس کی طرف منسوب کیا جائے یا موت اور درد اور دکھ اور بے علمی اور جہالت کو اس پر روا رکھا جائے۔ بلکہ صاف یہ شہادت دیتی ہے کہ خدائے تعالیٰ ان تمام رذیلتوں اور نقصانوں سے پاک ہونا چاہئے اور اس میں کمال تام چاہئے اور کمال تام قدرت تام سے مشروط ہے اور جب خدائے تعالیٰ میں قدرت تام نہ رہی۔ اور نہ وہ کسی دوسری چیز کو پیدا کرسکا۔ اور نہ اپنی ذات کو ہریک قسم کے نقصان اور عیب سے بچاسکا تو اس میں کمال تام بھی نہ رہا۔ اور جب کمال تام نہ رہا تو محامد کاملہ سے وہ بے نصیب رہا۔ یہؔ ہندوؤں اور آریوں کا حال ہے اور جو کچھ عیسائی لوگ خدائے تعالیٰ کا جلال ظاہر اور نہ وہ معرفت۔ سو اب اے حضرات آپ لوگ ذرا ہوش سنبھال کر جواب دیں کہ جب ایک طرف تکمیل ایمان بے مثل کتاب پر موقوف ہے۔ اور دوسری طرفؔ آپ لوگوں کا یہ حال کہ نہ قرآن شریف کو مانیں اور نہ ایسی کوئی دوسری کتاب نکال کر دکھلاویں جو بے مثل ہو تو پھر