آدم کے لئے صرف ایک خدائے تعالیٰ تھا جسؔ نے تمام ضروری حوائج آدم کو پورا کیا اور اُس کو آپ حُسنِ تربیت اور حسن تادیب سے بمرتبۂ حقیقی انسانیت
اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عماد الدین صاحب تولد ثانی بھی پاویں تب بھی وہ کسی اہل زبان کا مقابلہ نہیں کرسکتے پھر جس حالت میں وہ عربوں کے سامنے بھی بول نہیں سکتے اور فی الفور گونگا بننے کے لئے طیار ہیں۔ تو پھر ان عیسائیوں اور آریوں کی ایسی سمجھ پر ہزار حیف اور دو ہزار *** ہے کہ جو ایسے نادان کی تالیف پر اعتماد کرکے اس بے مثل کتاب کی بلاغت پر اعتراض کرتے ہیں کہ جس نے سید العرب پر نازل ہوکر عرب کے تمام فصیحوں اور بلیغوں سے اپنی عظمت شان کا اقرار کرایا۔ اور جس کے نازل ہونے سے سبعہ معلقہ مکہ کے دروازہ پر سے اتارا گیا اور معلقہ مذکورہ کے شاعروں میں سے جو شاعر اس وقت بقید حیات تھا وہ بلاتوقف اس کتاب پر ایمان لایا پھر دوسرا افسوس یہ کہ اس نادان عیسائی کو اب تک یہ بھی خبر نہیں کہ بلاغتِ حقیقی اس امر میں محدود نہیں کہ قلیل کو کثیر پر ہرجگہ اور ہر محل میں خواہ نخواہ مقدّم رکھا جائے بلکہ اصل قاعدہ بلاغت کا یہ ہے کہ اپنے کلام کو واقعی صورت اور مناسب وقت کا آئینہ دار بنایا جاوے سو اس جگہ بھی رحمان کو رحیم پر مقدم کرنے میں کلام کو واقعی صورت اور ترتیب کا آئینہ بنایا گیا ہے چنانچہ اس ترتیب طبعی کا مفصل ذکر ابھی سورۃ فاتحہ کی آئندہ آیتوں میں آوے گا۔ اور اب ہم سورۃ ممدوحہ کی دوسری آیتوں کو تفصیل سے لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے۔ الحمدللّٰہ تمام محامد اس ذات معبود برحق مستجمع جمیع صفات کاملہ کو ثابت ہیں جس کا نام اللہ ہے۔ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں کہ قرآن شریف کی اصطلاح میں اللہ اس ذات کامل کا نام ہے کہ جو معبود برحق اور مستجمع جمیع صفات کاملہ اور تمام رذائل سے منزہ اور واحد لاشریک اور مبدء جمیع فیوض ہے۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک قرآنِ شریف میں اپنے نام
اس آیت میں بھی اشارہ فرمایا۔
یعنے آج میں نے علم دین کو مرتبہ کمال تک