پانے کیلئے موجود تھی۔ دوسری ضرورت حقہ بھی الہام کی مقتضی تھی۔ کیونکہ اس وقت
جابجا قرآن شریف میں درج ہیں اور جو لوگ سخت کور باطن تھے اگرچہ وہ ایمان نہ لائے مگر سراسیمگی اور حیرانی کی حالت میں ان کو بھی کہنا پڑا کہ یہ سحر عظیم ہے جس کا مقابلہ نہیں ہوسکتا چنانچہ ان کا یہ بیان بھی فرقان مجید کے کئی مقام میں موجود ہے۔ اب اسی کلام معجز نظام پر ایسے لوگ اعتراض کرنے لگے جن میں سے ایک تو وہ شخص ہے جس کو دو سطریں عربی کی بھی صحیح اور بلیغ طور پر لکھنے کا ملکہ نہیں اور اگر کسی اہل زبان سے بات چیت کرنے کا اتفاق ہو تو بجز ٹوٹے پھوٹے اور بے ربط اور غلط فقروں کے کچھ بول نہ سکے اور اگر کسی کو شک ہو تو امتحان کرکے دیکھ لے اور دوسرا وہ شخص ہے جو علم عربی سے بکلّی بے بہرہ بلکہ فارسی بھی اچھی طرح نہیں جانتاؔ ۔ اور افسوس کہ عیسائی مقدم الذکر کو یہ بھی خبر نہیں کہ یورپ کے اہل علم کہ جو اس کے بزرگ اور پیشرو ہیں جن کا بورٹ۱ صاحب وغیرہ انگریزوں نے ذکر کیا ہے وہ خود قرآن شریف کے اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے قائل ہیں اور پھر دانا کو زیادہ تر اس بات پر غور کرنی چاہئے کہ جب ایک کتاب جو خود ایک اہل زبان پر ہی نازل ہوئی ہے اور اس کی کمال بلاغت پر تمام اہل زبان بلکہ سبعہ معلقہ کے شعراء جیسے اتفاق کرچکے ہیں تو کیا ایسا مسلم الثبوت کلام کسی نادان اجنبی و ژولیدہ زبان والے کے انکار سے جو کہ لیاقت فن سخن سے محض بے نصیب اور توغل علوم عربیہ سے بالکل بے بہرہ بلکہ کسی ادنیٰ عربی آدمی کے مقابلہ پر بولنے سے عاجز ہے قابل اعتراض ٹھہر سکتا ہے بلکہ ایسے لوگ جو اپنی حیثیت سے بڑھ کر بات کرتے ہیں خود اپنی نادانی دکھلاتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ اہل زبان کی شہادت کے برخلاف اور بڑے بڑے نامی شاعروں کی گواہی کے مخالف کوئی نکتہ چینی کرنا حقیقت میں اپنی جہالت اور خر فطرتی دکھلانا ہے۔ بھلا عماد الدین پادری کسی عربی آدمی کے
ترغیب دیتا ہے اور جس باتؔ میں واقعی طور پر بھلائی پیدا ہو خواہ وہ بات درشت ہو خواہ نرم۔ اسی کے کرنے کے لئے تاکید فرماتا ہے۔ جیسا فرمایا ہے