وہ اس کی پیدائش کو ادھورا چھوڑ دیتا اور پھر انسان اتفاقی طور پر اپنے نقصان کی آپ تکمیلؔ کرتا ۔کیا جس ذات کو ان تمام بولیوں کا قدیم سے علم حاصل ہے۔ بھی ضرورتِ حقہ کے وقت مہیا کردیتا ہے۔ ہاں یہ بات درست ہے کہ خدا کا کلام انہیں برگزیدہ لوگوں پر نازل ہوتا ہے جن سے خدا راضی ہے اور انہیں سے وہ مکالمات اور مخاطبات کرتا ہے جن سے وہ خوش ہے مگر یہ بات ہرگز درست نہیں کہ جس سے خدا راضی اور خوش ہو اس پر خواہ نخواہ بغیر کسی ضرورت حقہ کے کتاب آسمانی نازل ہوجایا کرے یا خدائے تعالیٰ یونہی بلاضرورت حقہ کسی کی طہارت لازمی کی و جہ سے لازمی اور دائمی طور پر اس سے ہر وقت باتیں کرتا رہے بلکہ خدا کی کتاب اسی وقت نازل ہوتی ہے جب فی الحقیقت اس کے نزول کی ضرورت پیش آجائے۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ وحی اللہ کے نزول کا اصل موجب خدائے تعالیٰ کی رحمانیت ہے کسی عامل کا عمل نہیں اور یہ ایک بزرگ صداقت ہے جس سے ہمارے مخالف برہمو وغیرہ بے خبر ہیں۔ پھر بعد اس کے سمجھنا چاہئے کہ کسی فرد انسانی کا کلام الٰہی کے فیض سے فی الحقیقت مستفیض ہوجانا اور اس کی برکات اور انوار سے متمتع ہوکر منزل مقصود تک پہنچنا اور اپنی سعی اور کوشش کے ثمرہ کو حاصل کرنا یہ صفت رحیمیت کی تائید سے وقوع میں آتا ہے ۔ اور اسی جہت سے خدائے تعالیٰ نے بعد ذکر صفتِ رحمانیّت کے صفتِ رحیمیّت کو بیان فرمایا تا معلوم ہوکہ کلامِ الٰہی کی تاثیریں جو نفوسِ انسانیہ میں ہوتی ہیں یہ صفتِ رحیمیّت کا اثر ہے۔ جس قدر کوئی اعراض صوری و معنوی سے پاک ہوجاتا ہے۔ جس قدر کسی کے دل میں خلوص اور صدق پیدا ہوتا ہے جس قدر کوئی جدوجہد سے اور فعل حکیم مطلق کو اپنی کوتہ فہمی سے قابل اعتراض ٹھہراتا ہے کیا یہ کچھ خوبی کی بات ہے کہ ہم ہر یک وقت بغیر لحاظ موقعہ و مصلحت اپنے گناہ گاروں کے گناہوں