نہ انہوں نے اپنے ما باپ۱ سے سیکھا اور نہ کسی استاد سے تعلیم پائی۔ تو پھر کیا وجہ کہ ابتداء پیدائشؔ میں جو عین حاجت کا زمانہ ہے۔ انسان کو بولیاں تعلیم کرنا خدائے تعالیٰ کی
اور کوئی لفظ اور کوئی حرف ایسا نہ ہو کہ جو حکیمانہ بیان پر مبنی نہ ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ تیسرا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی ہوں کہ حالت موجودہ زمانہ کو ان کی نہایت ضرورت ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ چوتھا تصور کرنے سے کہ وہ صداقتیں ایسی بے مثل و مانند ہوں کہ کسی حکیم یا فیلسوف کا پتہ نہ مل سکتا ہو کہ ان صداقتوں کو اپنی نظر اور فکر سے دریافت کرنے والا ہوچکا ہو۔ پھر ساتھ ہی یہ پانچواں تصور کرنے سے کہ جس زمانہ میں وہ صداقتیں ظاہر ہوئی ہوں ایک تازہ نعمت کی طرح ظاہر ہوئی ہوں اور اس زمانہ کے لوگ ان کے ظہور سے پہلے اس راہ راست سے بکلی بے خبر ہوں۔ پھرؔ ساتھ ہی یہ چھٹا تصور کرنے سے کہ اُس کلام میں ایک آسمانی برکت بھی ثابت ہو کہ جو اس کی متابعت سے طالب حق کو خداوند کریم کے ساتھ ایک سچا پیوند اور ایک حقیقی انس پیدا ہوجائے اور وہ انوار اس میں چمکنے لگیں کہ جو مردان خدا میں چمکنے چاہئیں۔ یہ کل مجموعی ایک ایسی حالت میں معلوم ہوتا ہے کہ عقل سلیم بلا توقف و تردّد حکم دیتی ہے کہ بشری کلام کا ان تمام مراتب کاملہ پر مشتمل ہونا متمنع اور محال اور خارق عادت ہے اور بلاشبہ ان تمام فضائل ظاہری و باطنی کو بہ نظر یکجائی دیکھنے سے ایک رُعب ناک حالت ان میں پائی جاتی ہے کہ جو عقلمند کو اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ اس کل مجموعی کا انسانی طاقتوں سے انجام پذیر ہونا عقل اور قیاس سے باہر ہے اور ایسی رعب ناک حالت گلاب کے پھول میں ہرگز پائی نہیں جاتی کیونکہ قرآن شریف میں یہ خصوصیت زیادہ ہے کہ اس کی صفات مذکورہ کہ جو بے نظیری کا مدار ہیں نہایت بدیہی الثبوت ہیں
صریحاً انسان کے نفس میں قوت پاتے ہیں۔ کیا ہم نرا دعویٰ کسی دلیل کے بغیر تسلیم کرلیں۔ یا ایک امر بدیہی البطلان کو حق محض مان لیں کیا کریں؟ توؔ اب ظاہر ہے کہ یہ کیسا نکما جھگڑا اور کس درجہ کی نادانی ہے کہ ایک بے اصل اور بے ثبوت بات پر اصرار کرتے ہیں اور جو راستہ صاف اور سیدھا نظر آتا ہے۔ اس پر قدم رکھنا نہیں چاہتے اور لطف