سے ایک بولی کا من کل الوجوہ پیداؔ ہوجانا یہ اور بات ہے۔ ماسوا ان سب باتوں کے جبکہ اب بھی خدائے تعالیٰ بذریعہ اپنے الہام کے مختلف بولیوں کو اپنے
بارہا ذکر کیا گیا ہے اُس کی عبارت میں ایسی رنگینی اور آب و تاب اور نزاکت و لطافت و ملایمت اور بلاغت اور شیرینی اور روانگی اور حسن بیان اور حسن ترتیب پایا جاتا ہے کہ ان معانی کو اس سے بہتر یا اس سے مساوی کسی دوسری فصیح عبارت میں ادا کرنا ممکن نہیں اور اگر تمام دنیا کے انشاپرداز اور شاعر متفق ہوکر یہ چاہیں کہ اسی مضمون کو لیکر اپنے طور سے کسی دوسری فصیح عبارت میں لکھیں کہ جو سورۃ فاتحہ کی عبارت سے مساوی یا اس سے بہتر ہو تو یہ بات بالکل محال اور ممتنع ہے کہ ایسی عبارت لکھ سکیں۔ کیونکہ تیرہ سو برس سے قرآن شریف تمام دنیا کے سامنے اپنی بے نظیری کا دعویٰ پیش کررہا ہے۔ اگر ممکن ہوتا تو البتہ کوئی مخالف اس کا معارضہ کرکے دکھلاتا۔ حالانکہ ایسے دعویٰ کے معارضہ نہ کرنے میں تمام مخالفین کی رسوائی اور ذلّت اور قرآن شریف کی شوکت اور عزت ثابت ہوتی ہے۔ پس چونکہ تیرہ سو برس سے اب تک کسی مخالف نے عبارت قرآنی کی مثل پیش نہیں کی تو اس قدر زمانہ دراز تک تمام مخالفین کا مثل پیش کرنے سے عاجز رہنا اور اپنی نسبت ان تمام رسوائیوں اور ندامتوں اور لعنتوں کو روا رکھنا کہ جو جھوٹوں اور لاجواب رہنے والوں کی طرف عائد ہوتے ہیں صریح اس بات پر دلیل ہے کہ فی الحقیقت ان کی علمی طاقت مقابلہ سے عاجز رہی ہے اور اگر کوئی اس امر کو تسلیم نہ کرے تو یہ بار ثبوت اسی کی گردن پر ہے کہ وہ آپ یا کسی اپنے مددگار سے عبارت قرآن کی مثل بنواکر پیش کرے۔ مثلاً سورۃ فاتحہ کے مضمون کو لیکر کوئی دوسری فصیح عبارت بناکر دکھلادے جو کمال بلاغت اور فصاحت میں اس کے برابر ہوسکے اور جب تک ایسا نہ کرے۔ تب تک وہ ثبوت کہؔ جو مخالفین کے تیرہ سو برس خاموش اور لاجواب رہنے سے اہل حق
تفرقہ پیدا نہ ہو اور بعض ہندو اپنے مونہہ پر تھیلی چڑھا کر رکھتے ہیں اورؔ پانی پن کر پیتے ہیں تا کوئی جیو ان کے مونہہ کے اندر نہ چلا جائے اور اس طرح پر وہ کسی جیو گھات کے موجب نہ ٹھہریں۔ اب دیکھئے اس کمال کا رحم اور عفو انجیل میں کہاں ہے۔ لیکن باوجود اس کے