بچہ انسان کا بغیر ذریعہ ماں اور باپ کے پیدا نہیں ہوتاؔ ۔ لیکن اگر اس ابتدائی
لکھنا چاہے تو یہ بھی اس کے لئےؔ ممکن نہیں جیسا کہ یہ بات ہر عاقل کے نزدیک نہایت بدیہی ہے کہ اگر مثلاً ایک دوکاندار جو کامل درجہ کا شاعر اور انشا پرداز ہو۔ یہ چاہے کہ جو اپنی اس گفتگو کو جو ہر روز اسے رنگا رنگ کے خریداروں اور معاملہ داروں کے ساتھ کرنی پڑتی ہے۔ کمال بلاغت اور رنگینی عبارت کے ساتھ کیا کرے اور پھر یہ بھی التزام رکھے کہ ہر محل اور ہر موقعہ میں جس قسم کی گفتگو کرنا ضروری ہے وہی کرے مثلاً جہاں کم بولنا مناسب ہے وہاں کم بولے اور جہاں بہت مغززنی مصلحت ہے وہاں بہت گفتگو کرے اور جب اس میں اور اس کے خریدار میں کوئی بحث آپڑے تو وہ طرز تقریر اختیار کرے جس سے اس بحث کو اپنے مفید مطلب طے کرسکے۔ یا مثلاً ایک حاکم جس کا یہ کام ہے کہ فریقین اور گواہوں کے بیان کو ٹھیک ٹھیک قلمبند کرے اور ہریک بیان پر جو جو واقعی اور ضروری طور پر جرح قدح کرنا چاہئے وہی کرے اور جیسا کہ تنقیح مقدمہ کے لئے شرط ہے اور تفتیش امر متنازعہ فیہ کے لئے قرین مصلحت ہے سوال کے موقعہ پر سوال اور جواب کے موقعہ پر جواب لکھے اور جہاں قانونی وجوہ کا بیان کرنا لازم ہو۔ ان کو درست طور پر حسب منشاء قانون بیان کرے اور جہاں واقعات کا بہ ترتیب تمام کھولنا واجب ہو۔ ان کو بہ پابندی ترتیب و صحت کھول دے اور پھر جو کچھ فی الواقعہ اپنی رائے اور بتائید اُس رائے کے وجوہات ہیں ان کو بہ صحت تمام بیان کرے اور باوصف ان تمام التزامات کے فصاحت بلاغت کے اس اعلیٰ درجہ پر اس کا کلام ہو کہ اس سے بہتر کسی بشر کے لئے ممکن نہ ہو تو اس قسم کی بلاغت کو بانجام پہنچانا بہ بداہت ان کے لئے محال ہے۔ سو انسانی فصاحتوں کا یہی حال ہے کہ بجز فضول اور غیر ضروری اور واہیات باتوں کے قدم ہی نہیں اٹھ سکتا۔ اور بغیر جھوٹ
خوب یوں ہی سہی مگر کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ اس قدر تاکید انسان نہیں کرسکتا۔ اورؔ انسانی قوّتیں ان تاکیدوں کے بیان سے قاصر ہیں۔ کیا رحم اور عفو کی تاکید بُت پرستوں کے پُستکوں میں کچھ کم ہے۔ بلکہ سچ پوچھو تو آریہ قوم کے بت پرستوں نے رحم کی تاکید کو