جس میں اسباب معتادہ کی ذرہ آمیزش نہ تھی۔ اور اس زمانہؔ میں جو کچھ پنڈت صاحب کا ایسا الہام اور ایسی عقل جس نے پہلی دفعہ ہی ایسی رہزنی کی دوسرے لوگوں کی طبیعت کو کہ جو غفلت کے زمانوں میں اور صدہا ظلمتوں کے وقت میں پیدا ہوئے ہیں کیونکر راہ راست پر لاوے گا کیونکہ یہ لوگ تو اپنے سلسلہ نوعی کی تازہ پیدائش سے بھی واقف نہیں ہیں اور بباعث غلبہُ حبِّ دنیا اور طرح طرح کے فسادوں کی زندگی بھی مقدس نہیں رکھتے اور خدا کی قربت کے بھوکے اور پیاسے بھی نہیں بلکہ انسانی گورنمنٹ کی قربت کے بھوکے اور پیاسے ہیں۔ پس جبکہ پنڈت صاحب کے خیالی الہام کا پاک زمانوں میں وہ اثر ہوا کہ مخلوق چیزوں کو خدا سمجھ بیٹھے تو اس تاریک زمانہ میں ایسے الہام کی یہ تاثیر ہونی چاہئے کہ لوگ خدا سے ہی انکار کریں۔ غرض پنڈت صاحب جو ایسے خیالات کا نام الہام رکھتے ہیں جن سے باقرار ان کے ابتدا سے غلطی ہوتی چلی آئی ہے۔ یہ پنڈت صاحب کاؔ خیال یا یوں کہو کہ ان کا خیالی الہام سراسر غلط اور جھوٹ ہے۔ اگرچہ انسانی خیالات کا علت العلل بھی خدا ہے۔ اور خدا ہی دلوں میں ڈالتا ہے اور عقلوں کو راہ دکھاتا ہے۔ لیکن وہ الہام کو جو حقیقت میں خدا کا پاک کلام اور اس کا آواز اور اس کی وحی ہے۔ وہ انسان کے فطرتی خیالات سے برتر و اعلیٰ ہے۔ وہ حضرت خدا تعالیٰ کی طرف سے اور اس کے ارادہ سے کاملوں کے دلوں پر نازل ہوتا اور خدا کا کلام ہونے کی وجہ سے خدا کی برکتوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ خدا کی قدرتوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ خدا کی پاک سچائیوں کو اپنے ہمراہ رکھتا ہے۔ لاریب فیہ ہونا اس میں ایک ذاتی خاصیت ہے۔ اور جس طرح خوشبو عطر کے وجود پر دلالت کرتی ہے اسی طرح وہ خدا کی ذات اور صفات کے وجود پر قطعی اور یقینی دلالت کرتا ہے۔ لیکن انسان کے اپنے ہی خیالات یہ مرتبہ حاصل نہیں کرسکتے۔ کیونکہ جس طرح انسان پر ضعف مخلوقیت ہے اسی طرح انسانی خیالات پر وہ ضعف غالب ہے۔ جو کچھ قادر مطلق کے چشمہ سے نکلتا ہے وہ اَور چیز ہے اور جو کچھ انسانی طبیعت سے پیدا ہوتا ہے وہ اَور ہے۔ مناسب ہے کہ پنڈت صاحب