قدرتِ محض سے پیدا کیا تھا۔ آسمانؔ اور زمین اور سورج اور چاند اور خود انسان کی خدا کا کلام نہیں کہلاتے۔ یہ خیالات خلق اللہ ہیں جو انسان کی طبیعت کا لازمہ ذاتی ہے اور خدا کا کلام جو خدا کی طرف سے نازل ہوتا ہے وہ امر اللہ ہے جو ایک وہبی اور لدنی امر ہے۔ خدا کے کلام کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ جیسے خدا اپنی ذات میں سہو اور خطا اور کذب اور فضول اور ہریک نقصان اور نالائق امر سے منزہ ہے۔ ایسا ہی اس کا کلام بھی ہریک سہو اور خطا اور کذب اور فضول اور ہر طرح کے نقصان اور نالائق حالت سے منزہ اور پاک چاہئے۔ کیونکہ جو کلام پاک اور کامل چشمہ سے نکلا ہے۔ اس پر ہرگز یہ بات جائز نہیں کہ کسی نوع کی اس میں ناپاکی یا نقصان پایا جاوے اور ضرور ہے کہ وہ کلام ان تمام کمالات سے متصف ہو کہ جو خدائے قادر و کامل و قدوس و عالم الغیب کے کلام میں ہونی چاہئے۔ لیکن پنڈت صاحب آپ اقراری ہیں کہ جس چیز کا نام انہوں نے الہام رکھا ہوا ہے وہ ہرگز شک اور شبہ اور سہو اور غلطی اور نقصان اور نالیاقتی سے خالی نہیں۔ بلکہ ان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا الہام ہمیشہ لوگوں کو کفر اور بے ایمانی میں ڈالتا رہا ہے۔ چنانچہ اس نے ابتدائی زمانہ کے لوگوں کو کبھی یہ بتلایا کہ گویا ان کا خدا درخت ہیں۔ اور کبھی پہاڑوں کو خدا بنا دیا۔ کبھی طوفان کو۔ کبھی پانی کو۔ کبھی آگ کو۔ کبھی ستاروں کو۔ کبھی چاند کو۔ کبھی سورج کو۔ غرض اسی طرح طرح طرح کے خداؤں کی طرف ان کو رجوع دیتا رہا۔ اور عقل بھی اُس الہام کی تصدیق کرتی گئی۔ آخر مدتوں کے بعد اب کچھ تھوڑے ہی عرصہ سے الہام اور عقل کو اصلی خدا کا پتہ لگا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ جس حالت میں پہلے اس سے ہزارہا مرتبہ پنڈت صاحب کے باپ دادوں کے خیالی الہام نے اور نیز ان کی عقل نے طرح طرح کے دھوکے کھائے ہیں اور خدا شناسی میں ہمیشہ کچھ کا کچھ سمجھتے رہے تو اب کیونکر پنڈت صاحب تسلی کرسکتے ہیں کہ ان کا خیالی الہام اور خیالی اٹکلیں خطا اور غلطی سے محفوظ ہیں۔ کیا ممکن نہیں کہ اس میں بھی کچھ دھوکا ہی ہو۔ جس