ہر یک بولی انسان کی ہی ایجاد ہے بلکہ بکماؔ ل تحقیق ثابت ہے کہ موجد اور خالق
کسر شان روا رکھ کر یہ خیال نہیں کرتے کہ اس سے ایک عالم کی کسر شان لازم آتی ہے۔ کوئی اپنی عقل پر ناز کرے یا بزعم خود کسی دوسرے نبی کا تابع بن بیٹھے۔ اس کے لئے یہی سیدھا راستہ ہے کہ اول انتہا کی کوشش کرکے قرآن شریف کے حقائق و معارف کے مقابلہ پر اپنی عقل یا اپنی الہامی کتاب میں سے ویسے ہی حقائق حکمیہ نکال کر دکھلا دے پھر جو چاہے بکا کرے۔ مگر قبل اس کے جو اس مہم کو انجام دے سکے جو کچھ وہ کسر شان قرآن شریف کرتا ہے یا جو الفاظ تحقیرانہ حضرت خاتم الانبیاء کے حق میں بولتا ہے۔ وہ حقیقت میں اسی نادان ناقص العقل پر یا اس کے کسی نبی و بزرگ پر وارد ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر آفتاب کی روشنی کو تاریکی قرار دیا جائے تو پھر بعد اس کے اور کون سی چیز رہے گی جس کو ہم روشن کہہ سکتے ہیں۔
اے سر خود کشیدہ از فرقان
پا نہادہ بہ لُجۂ طغیاں
بانگ کم کن بہ پیش نور ہُدٰی
توبہ کن از فسوس و بازیہا
ایں چہ چشمے ست کور و سخت کبود
کافتابے درو چو ذرہ نمود
تانگیری کنارہ زیں رہ و خو
ہست دور از کنار کشتی تو
باخدایت عناد و کیں تاچند
خندہ و بازیت بدیں تاچند
خویشتن رامکش بہ ترک حیا
جائے گریہ مشو باستہزا
مہرؔ تاباں چو برفلک رخشید
چوں توانی بخاک و خس پوشید
شب تواں کرد صد فریب نہاں
لیک در روز روشن ایں نتواں
نور فرقاں نہ تافت است چناں
کو بمانَد نہاں زِ دیدہ وراں
آن چراغ ہدٰی ست دنیا را
رہبر و رہنما ست دنیا را
رحمتے از خداست دنیا را
نعمتے از سماست دنیا را
مخزن راز ہائے ربانی
از خدا آلۂ خدا دانی