سے ہرگز برابر نہیں ہوؔ سکتیں اور جو علمی طاقتوں میں ادنیٰ اور اعلیٰ اور قوی اور
ثابت ہوگیا کہ الہام نہ غیر ممکن ہے اور نہ غیر موجود بلکہ ایک بدیہی الثبوت صداقت ہے کہ جو عندالعقل واجب اور ضروری اور عندا لتفتیش متحقق الوجود ہے جس کا موجود ہونا ہم نے ثابت کردکھایا ہے پس اے حضرات اب آپ لوگوں پر لازم ہے کہ اس حاشیہ کو اور نیز حاشیہ در حاشیہ نمبر ایک اور نمبر ۲ اور نمبر ۳ کو بغور تمام پڑھیں اور بار بار پڑھیں اور پھر بمقتضائے خدا ترسی راستے کے روشن چراغ کو پاکر ناراستی کے تاریک خیالات کو چھوڑ دیں اورؔ اس متعصبانہ شرم کو دل میں جگہ نہ دیں کہ اپنا ہی سیا ہوا کیونکر ادھیڑیں بلکہ لازم ہے کہ جو شخص اپنے تئیں منصف سمجھتا ہے اب وہ اپنا انصاف دکھاوے اور جو اپنے تئیں حق کا طالب جانتا ہے اب وہ حق کے قبول کرنے میں توقف نہ کرے ہاں نفسانی آدمی کو ایسی صداقت کا قبول کرنا جس کے ماننے سے اس کی شیخی میں فرق آتا ہے ایک مشکل امر ہوگا مگر اے ایسی طبیعت کے آدمی!! تو بھی اس قادر مطلق سے خوف کر جس سے آخرکار تیرا معاملہ ہے اور دل میں خوب سوچ لے کہ جو شخص حق کو پاکر پھر بھی طریقہ ناحق کو نہیں چھوڑتا اور مخالفت پر ضد کرتا ہے اور
نہیں ہے بلکہ وہ اس غرض سے ہے کہ تا وہ ان برکتوں کو جو ان پر اور ان کے متعلقین پر وارد ہونے کو ہیں قبل از وقوع بیان کرکے توجہ خاص حضرت احدیت پر یقین دلائیں اور نیز وہ مخاطبات اورؔ مکالمات جو حضرت احدیت کی طرف سے ان کو ہوتے ہیں ان کی صحت اور منجانب اللہ ہونے پر ایک قطعی اور یقینی حجت پیش کریں۔ اور ایسے انسان جن کو یہ سب برکات قدسیہ بکثرت عطا ہوتی ہیں ان کی نسبت خدا کی قدرت اور حکمت قدیمہ کے قانون میں یہی قرار پایا ہے کہ وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے سچے اور پاک عقائد ہوں اور جو سچے مذہب پر ثابت اور مستقیم ہوں اور حضرت احدیت سے غایت درجہ کا اتصال اور دنیا و مافیہا سے غایت درجہ کا انقطاع رکھتے ہوں ایسے لوگ کبریت احمر کا حکم رکھتے ہیں اور ان کی فطرت کو ربانی انوار اور حقانی مذہب لازم ہے اور ان کی ذات ستودہ صفات کو کہ جو جامع البرکات ہے بدبخت نجومیوں اور جوتشیوں