​ اور درختوں کے پتوں کے بےؔ مثل ہونے کی تم کو کہاں سے خبر پہنچ گئی۔ تم ذرا سوچتے نہیں کہ اگر کلام ربانی کی ترکیب میں ایک کیڑے کی ترکیب جتنی بھی کمالیت نہیں تو آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔ اور انبیاء منجملہؔ سلسلہ متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہوگئے ہیں۔ اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلوسلم عل کا نام نور اور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے۔ 3۔۱؂ الجزونمبر۶۔ 3۔ الجزو نمبر ۲۲۔ ۲؂ یہی حکمت ہے کہ نور وحی جس کے لئے نور فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔ پس اب اس حجت موجّہ سے کہ جو مثال مقدم الذکر میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی۔ بطلان ان لوگوں کے قول کا ظاہر ہے جنہوں نے باوصف اس کے کہ فطرتی تفاوت مراتب کے قائل ہیں۔ پھر محض حمق و جہالت کی راہ سے یہ خیال کرلیا ہے کہ جو نور افراد کامل الفطرت کو ملتا ہے وہی نور افراد ناقصہ کو بھی مل سکتا ہے۔ ان کو دیانت اور انصاف سے سوچنا چاہیئے کہ فیضان وحی کے بارہ میں کس قدر غلطی میں وہ مبتلا ہورہے ہیں۔ صریح دیکھتے ہیں کہ خدا کا قانون قدرت ان کے خیال باطل کی تصدیق نہیں کرتا۔ پھر شدت تعصب و عناد سے اسی خیال فاسد پر جمے بیٹھے ہیں۔ ایسا ہی عیسائی لوگ بھی نور کے فیضان کے لئے فطرتی نور کا شرط ہونا نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ جس دل پر نور وحی نازل ہو۔ اس کے لئے اپنی کسی خاصّہ اندرونی میں نورانیت کی حالت ضروری نہیں بلکہ اگر کوئی بجائے عقل سلیم کے کمال درجہ کا نادان اور سفیہ ہو اور بجائے صفت شجاعت کے کمال درجہ کا بزدل اور بجائے صفت سخاوت کے کمال درجہ کا بخیل اور بجائے صفت حمیت کے کمال درجہ کا بے غیرت اور بجائے صفت محبت الٰہیہ کے کمال درجہ کا محبِ دنیا اور بجائے صفت زہد و ورع و امانت کے بڑا بھارا چور اور ڈاکو اور بجائے صفت عفت و حیا کے کمال درجہ کا بے شرم اور شہوت پرست اور بجائے صفت قناعت کے کمال درجہ کا حریص اور لالچی۔