مقابلہ کریں ورنہ اگر یونہی بلاپیش کرنے نظیر کے انکار کرتے رہیں تو اپنے گھر کو غارت اور اپنی عورتوں کو کنیز کیں اورؔ اپنے آپ کو مقتول سمجھیں۔ کیا ایسا دعوےٰ وسوسہ سوم۔ اگر مجرد عقل کے ذریعہ سے معرفت تام و یقین تام میسر نہ ہو تب بھی کسی قدر معرفت تو حاصل ہوتی ہے وہی نجات کے لئے کافی ہے۔ جواب۔ یہ وسوسہ بالکل متعصبانہ خیال ہے۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ کسی دغدغہ کے بغیر خاتمہ نیک ہوجانا یقین کامل پر موقوف ہے اور یقین کامل خدا کی بے نظیر کتاب کے بدون حاصل نہیں ہوسکتا۔ ایسا ہی غلطیوں سے بچے رہنا بجز معرفت کامل ممکن نہیں اور معرفت کامل بھی الہام کامل کے بغیر غیر ممکن۔ پھر مجرد عقل ناقص کیونکر نجات کے لئے کافی ہوسکتی ہے۔ بالخصوص وہ طریقۂ خداشناسی جس کو برہمو سماج والوں کی عقل عجیب نے بہ تبعیت بعض یورپ کے فلاسفروں کے پسند کیا ہے۔ ایسا خراب اور تردّد انگیز ہے کہ اس سے کوئی معرفت کا مرتبہ حاصل ہونا تو کیا امید کی جائے، خود وہ انسان کو طرح طرح کے شکوک اور شبہات میں ڈالتا ہے۔ کیونکہ اُنہوں نے خداوند تعالیٰ کو ایک ایسا پتلا بے جان فرض کرلیا ہے۔ جس سے ساری عزت اور بزرگی اس کی دور ہوتی ہے۔ ان کا مقولہ ہے کہ خدا کے وجود کا پتہ لگ جانا خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک اتفاقی امر ہے کہ عقلمندوں کی کوششوں سے ظہور میں آیا اور یوں بیان کرتے ہیں کہ اول اول جب بنی آدم پیدا ہوئے محض بے عقل اور وحشیوں کی طرح تھے خدا نے اپنے وجود سے کسی کو خبر نہیں دی تھی۔ پھر رفتہ رفتہ لوگوں کو آپ ہی خیال آیا کہ کوئی معبود مقرر کریں۔ اول پہاڑؔ اور درختؔ دریاؔ وغیرہ کو کہ آس پاس اور اردگرد کی چیزیں تھیں، اپنا خدا ٹھہرایا۔ پھر کچھ ذرا اوپر چڑھے اور ہواؔ ۔ طوفانؔ وغیرہ کو قادر مطلق خیال کیا۔ پھر اَور بھی آگے قدم بڑھا کر سورجؔ ۔ چاندؔ ۔ ستاروںؔ کو اپنا رب سمجھ بیٹھے۔ اسی طرح آہستہ آہستہ غور کامل کرنے سے حقیقی خدا کی طرف رجوع لے آئے۔ اب دیکھئے کہ اس تقریر سے خداتعالیٰ کی ہستی حقیقی پر کس قدر شک پڑتا ہے اور اُس کے حیؔ و قیوم اور مدبر بالارادہ ہونے کی نسبت کیا کیا بدگمانیاں عائد ہوتی ہیں کہ نعوذ باللہ یہ ماننا پڑتا ہے کہ خدا نے (جیسا کہ ایک ذات موجود عالم الغیب اور قادر مطلق کا خاصہ ہونا چاہیئے) اپنے وجود کی آپ