اورؔ شستہ ہو مگر اس کی نسبت یہ کہنا جائز نہیں ہوسکتا کہ فی الواقعہ تالیف اُس کی انا الموجود ہونے کی کبھی آواز نہیں آئی۔ یہ ہماری ہی بہادری ہے جنہوں نے خودبخود بے جتلائے، بے بتلائے اسے معلوم کرلیا۔ وہ تو ایسا چپ تھا جیسے کوئی سویا ہوا یا مرا ہوا ہوتا ہے۔ ہمیں نے فکر کرتے کرتے۔ کھودتے کھودتے اس کا کھوج لگایا۔ گویا خدا کا احسان تو ان پر کیا ہونا تھا۔ ایک طور پر انہیں کا خدا پر احسان ہے کہ اس بات کی پختہ خبر ملنے کے بغیر کہ خدا بھی ہے اور اس امر کے یقین کامل ہونے کے بدوں کہ اس کی نافرمانی سے ایسا ایسا عذاب اور اس کی فرمانبرداری سے ایسا ایسا انعام مل رہے گا۔ یونہی بے کہے کہائے اور سنے سنائے کے اس خدائے موہوم کی فرمانبرداری کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔ گویا آپ ہی پکایا اور آپ ہی کھایا۔ لیکن خدا ایسا کمزور اور ضعیف تھا کہ اس سے اتنا نہ ہوسکا کہ اپنے وجود کی آپ خبر دیتا۔ اور اپنے وعدوں کے بارے میں آپ تسلی بخشتا۔ بلکہ وہ چھپا ہوا تھا۔ انہوں نے ظاہر کیا۔ وہ گمنام تھا۔ انہوں نے شہرت دی۔ وہ چپ تھا۔ انہوں نے اس کا کام آپ کیا۔ گویا وہ تھوڑی ہی مدت سے اپنی خدائی میں مشہور ہوا ہے اور وہ بھی اُن کی کوششوں سے۔ ہریک عاقل جانتا ہے کہ یہ قول بت پرستوں سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ بت پرست لوگ اپنے دیوتاؤں کو صرف اپنیؔ نسبت محسن اور منعم قرار دیتے ہیں۔ لیکن منکرین الہام نے تو حدّ کردی کہ ان کے زعم میں ان کی دیوی کا (کہ عقل ہے) نہ فقط لوگوں پر بلکہ خدا پر بھی احسان ہے کہ جس کے ذریعہ سے(بقول ان کے) خدا نے شہرت پائی۔ اِس صورت میں نہایت روشن ہے کہ الہامؔ کے انکاری ہونے سے صرف ان میں یہی فساد نہیں کہ خدا کے وجود پر مشتبہ اور مظنون طور پر ایمان لاتے ہیں اور طرح طرح کی غلطیوں میں مبتلا ہیں۔ بلکہ یہ فساد بھی ہے کہ توحید کامل سے بھی محروم اور بے نصیب ہیں اور شرک سے آلودہ ہیں۔ کیونکہ شرک اور کیا ہوتا ہے۔ یہی تو شرک ہے کہ خدا کے احسانات اور انعامات کو دوسرے کی طرف سے سمجھا جاوے۔ اس جگہ شاید برہمو سماج والے یہ جواب دیں کہ ہم اپنی عقل کو خدا ہی کی طرف سے سمجھتے ہیں اور اس کے فضل و احسان کے قائل ہیں۔ لیکن یاد رہے کہ یہ جواب ان کا دھوکا ہے۔ انسان کی فطرت