ہے جو ان سب چیزوں پر جو صادرؔ من اللہ ہیں نظر تدبر کرکے بہ پایہ صحت پہنچ گیا ہے۔ کیونکہ تمام جزئیات عالم جو خدا کی قدرت کاملہ سے ظہور پذیر ہیں جب ہم ہریک کو کیونکہ کمزور خیال زبردست خیال پر غالب نہیں آسکتا اور بلاشبہ یہ سچ بات ہے کہ جب ایسا آدمی جس کا یقین بہ نسبت امور آخرت کے دنیا پر زیادہ ہے اس مسافر خانہ سے کوچ کرنے لگے اور وہ نازک وقت جس کو جان کندن کہتے ہیں یکایک اس کے سر پر نمودار ہوکر اس کو اس یقینی لذات سے دور ڈالنا چاہے جو دنیا میں اس کو حاصل ہیں اور اُس کو اُن پیاروں سے علیحدہ کرنا چاہے جن کو وہ یقیناً بچشم خود ہر روز دیکھتا ہے۔ اور ان مالوں اور ملکوں اور دولتوں سے اس کو جدا کرنے لگے جن کو وہ بلاشبہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو ایسی حالت میں ممکن نہیں کہ اس کا خیال خدائے تعالیٰ کی طرف قائم رہے۔ مگر صرف اسی صورت میں کہ جب اس یقین کامل کے مقابل پر خدائے تعالیٰ کے وجود اور اس کی لذتِ وصال اور اس کے وعدہ جزا سزا پر بھی ایسا ہی یقین کامل بلکہ اس سے زیادہ ہو۔ اور اگر اس آخری وقت میں اس درجہ کا یقین جو خیالات دینوی کی مدافعت کرسکے اس کو حاصل نہ ہو۔ تو یہ امر غالباً اس کے لئے بدخاتمہ کا موجب ہوگا۔ اور یہ بات کہ صرف ملاحظہ مخلوقات سے یقین کامل حاصل نہیں ہوسکتا۔ اس طرح پر ثابت ہے کہ مخلوقات کوئی ایسا صحیفہ نہیں ہے کہ جس پر نظر ڈال کر انسان یہ لکھا ہوا پڑھ لے کہ ہاں اس مخلوق کو خدا نے پیدا کیا ہے اور واقعی خدا موجود ہے اور اسی کی لذت وصال راحت حقیقی ہے۔ اور وہی مطیعوں کو جزا اور نافرمانوں کو سزا دے گا۔ بلکہ مخلوقات کو دیکھ کر اور اس عالم کو ایک ترتیب احسن اور ابلغ پر مرتب پاکر فقط قیاسی طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس مخلوقات کا کوئی خالق ہونا چاہیئے۔ اور لفظ ہونا چاہیئے اور ہے کے مصداق میں بڑا فرق ہے۔ مفہوم ہونا چاہیئے اس یقین جازم تک نہیں پہنچا سکتا جس تک مفہوم ہے کا پہنچاتا ہے۔ بلکہ اُس میں کسی قدر رگِ شک باقی رہ جاتیؔ ہے۔ اور جو شخص کسی امر کی نسبت بطور قیاسی ہونا چاہیئے کہتا ہے اس کے قول کا صرف اس قدر خلاصہ ہے کہ میرے قیاس میں تو ہونا لازم ہے۔ اور آگے مجھے خبر نہیں کہ واقعہ میں ہے بھی یا