واعظین کو اپنے وعظ کے وقت جان کا اندیشہ تھا۔ اور جن میں امن کے ساتھ وعظ ہونا قطعی محال تھا۔ اور کوئی شخص طریقہ حقہ کو اختیار کرکے اپنی قوم کے ظلم سے محفوظ نہیں رہ سکتا تھا۔ لیکن سلطنت انگلشیہ کی آزادی نہ صرف ان خرابیوں سے خالی ہے۔ بلکہ اسلامی ترقی کی بدرجہ غایت ناصر اور موید ہے۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ اس خداداد نعمت کا قدر کریں۔ اور اس کے ذریعہ سے اپنی دینی ترقیات میں قدم بڑھاویں۔ اور اس طرف بھی توجہ کریں کہ اس مربی سلطنت کی شکر گزاری کے لئے یہ بھی پرضرور ہے کہ جیسا اُن کی دولت ظاہری کی خیرخواہی کی جائے ایسا ہی اپنے وعظ اور معقول بیان اور عمدہ تالیفات سے یہ کوشش کی جائے کہ کسی طرح دین اسلام کی برکتیں بھی اس قوم کے حصہ میں آجائیں۔ اور یہ امر بجز رفق اور مدارا اور محبت اور حلم کے انجام پذیر نہیں ہوسکتا۔ خدا کے بندوں پر رحم کرنا اور عرب اور انگلستان وغیرہ ممالک کا ایک ہی خالق سمجھنا اور اس کی عاجز مخلوق کی دل و جان سے غمخواری کرنا اصل دین و ایمان کا ہے۔ پس سب سے اول بعض ان ناواقف انگریزوں کے اس وہم کو دور کرنا چاہئیے کہ جو بوجہ ناواقفیت یہ سمجھ رہے ہیں کہ گویا قوم مسلمان ایک ایسی قوم ہے کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتی ہے اور اپنے محسنوں سے ایذا کے ساتھ پیش آتی ہے اور اپنی مربی گورنمنٹ کی بدخواہ ہے۔ حالانکہ اپنے محسن کے ساتھ باحسان پیش آنے کی تاکید جس قدر قرآن شریف میں ہے اور کسی کتاب میں اس کا نام و نشان نہیں پایا جاتا۔ وَقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی 33 ۱؂ وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اصْطَنَعَ اِلَیْکُمْ مَعْرُوْفًا فَجَازُوْہُ فَاِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ مُجَازَاتِہٖ فَادْعُوْا لَہٗ حَتّٰی یَعْلَمَ اَنَّکُمْ قَدْ شَکَرْتُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ یُّحِبُّ الشَّاکِرِیْنَ۔ الملتمس خاکسار غلام احمد عفی عنہ