اسلامیؔ انجمنوں کی خدمت میں التماسِ ضروری
ایک خط انجمن اسلامیہ لاہور کے سیکرٹری صاحب کی طرف سے اور ایسا ہی ایک تحریر مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کی طرف سے کہ جو انجمن ہمدردی اسلامی لاہور کے سیکرٹری ہیں موصول ہوکر اس عاجز کے ملاحظہ سے گزری جس سے یہ مطلب تھا کہ ان عرضداشتوں پر معزز برادران اہل اسلام و منصفین اہل ہنود کے دستخط کرائے جائیں کہ جو مسلمانوں کی ترقی تعلیم و ملازمت و نیز مدارس کی تعلیم میں اردو زبان قائم رکھنے کے لئے گورنمنٹ میں پیش کرنے کے لئے طیار کی گئی ہیں مگر افسوس کہ میں اوّل بوجہ علالت اپنی طبیعت کے اور پھر بوجہ قیام ضروری امرتسر کے اس خدمت کو ادا نہیں کرسکا لیکن بحکم الدین النصیحۃ اس قدر عرض کرنا اپنے بھائیوں کے دین اور دنیا کی بہبودی کا موجب سمجھتا ہوں کہ اگرچہ گورنمنٹ کی رحیمانہ نظر میں مسلمانوں کی شکستہ حالت بہرحال قابل رحم ٹھہرے گی۔ جس گورنمنٹ نے اپنے قوانین میں مویشی اور چارپایوں سے بھی ہمدردی ظاہر کی ہے وہ کیونکر ایک گروہِ کثیر انسانوں کی ہمدردی سے کہ جو اس کی رعیت اور اس کی زیردست ہیں اور ایک غربت اور مصیبت کی حالت میں پڑے ہیں غافل رہ سکتی ہے۔ لیکن ہمارے معزز بھائیوں پر صرف یہی واجب نہیں کہ وہ مسلمانوں کو افلاس اور تنزل اور ناتربیت یافتہ ہونے کی حالت میں دیکھ کر ہمیشہ اسی بات پر زور مارا کریں کہ کوئی میموریل طیار کرکے اور بہت سے دستخط اس پر کرا کر گورنمنٹ میں بھیجا جائے۔ ہریک کام دینی ہو یا دنیوی۔ اس میں استمداد سے پہلے اپنی خداداد طاقت اور ہمت کا خرچ کرنا ضروری ہے اور پھر اس فعل کی تکمیل کے لئے مدد طلب کرنا۔ خدا نے ہم کو ہماری ہرروزہ عبادت میں بھی یہی تعلیم دی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ ہم اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن کہیں نہ یہ کہ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ وَ اِیَّاکَ