شدتوں اور سختیوں اور مشکلوں کو اپنے نفس پر گوارا کرکے اپنے مولیٰ کا حکم بجا لائے۔ اور جو جو شرط مجاہدہ اور وعظ اور نصیحت کی ہوتی ہے وہ سب پوری کی اور کسی ڈرانے والے کو کچھ حقیقت نہ سمجھا۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ تمام نبیوں کے واقعات میں ایسے مواضعاتِ خطرات اور پھر کوئی ایسا خدا پر توکل کرکے کھلا کھلے شرک اور مخلوق پرستی سے منع کرنے والا اور اس قدر دشمن اور پھر کوئی ایسا ثابت قدم اور استقلال کرنے والا ایک بھی ثابت نہیں۔ پس ذرہ ایمانداری سے سوچنا چاہئے کہ یہ سب حالات کیسے آنحضرت کے اندرونی صداقت پر دلالت کررہے ہیں۔ ماسوا اس کے جب عاقل آدمی ان حالات پر اور بھی غور کرے کہ وہ زمانہ کہ جس میں آنحضرت مبعوث ہوئے حقیقت میں ایسا زمانہ تھا کہ جس کی حالت موجودہ ایک بزرگ اور عظیم القدر مصلح ربانی اور ہادی ¿ آسمانی کی اشد محتاج تھی٭اور جو جو تعلیم دی گئی۔