سب کی طبیعت کو ایسا اشتعال دے دیا کہ جس سے وہ خون کرنے کے پیاسے ہوگئے۔ زمانہ سازی کی تدبیر تو یہ تھی کہ جیسا بعضوں کو جھوٹا کہا تھا ویسا ہی بعضوں کو سچا بھی کہا جاتا۔ تا اگر بعض مخالف ہوتے تو بعض موافق بھی رہتے۔ بلکہ اگر عربوں کو کہا جاتا کہ تمہارے ہی لات و عُزّٰی سچے ہیں تو وہ تو اسی دم قدموں پر گر پڑتے اور جو چاہتے ان سے کراتے۔ کیونکہ وہ سب خویش اور اقارب اور حمیت قومی میں بے مثل تھے اور ساری بات مانی منائی تھی صرف تعلیم بت پرستی سے خوش ہوجاتے اور بدل و جان اطاعت اختیار کرتے۔ لیکن سوچنا چاہئیے کہ آنحضرت کا یکلخت ہرایک خویش و بیگانہ سے بگاڑ لینا اور صرف توحید کو جو ان دنوں میں اس سے زیادہ دنیا کے لئے کوئی نفرتی چیز نہ تھی اور جس کے باعث سے صدہا مشکلیں پڑتی جاتی تھیں بلکہ جان سے مارے جانا نظر آتا تھا مضبوط پکڑلینا یہ کس مصلحت دنیوی کا تقاضا تھا اور جبکہ پہلے اسی کے باعث سے اپنی تمام دنیا اور جمعیت برباد کرچکے تھے تو پھر اسی بلاانگیز اعتقاد پر اصرار کرنے سے کہ جس کو ظاہر کرتے ہی نو مسلمانوں کو قید اور زنجیر اور سخت سخت ماریں نصیب ہوئیں کس مقصد کا حاصل کرنا مراد تھا۔ کیا دنیا کمانے کے لئے یہی ڈھنگ تھا کہ ہر ایک کو کلمہ تلخ جو اس کی طبع اور عادت اور مرضی اور اعتقاد کے برخلاف تھا۔ سناکر سب کو ایک دم کے دم میں جانی دشمن بنادیا اور کسی ایک آدھ قوم سے بھی پیوند نہ رکھا۔ جو لوگ طامع اور مکار ہوتے ہیں۔ کیا وہ ایسی ہی تدبیریں کیا کرتے ہیں کہ جس سے دوست بھی دشمن ہوجائیں۔ جو لوگ کسی مکر سے دنیا کو کمانا چاہتے ہیں کیا ان کا یہی اصول ہوا کرتا ہے کہ بیکبارگی ساری دنیا کو عداوت کرنے کا جوش دلاویں اور اپنی جان کو ہر وقت کی فکر میں ڈال لیں۔ وہ تو اپنا مطلب سادھنے کے لئے سب سے صلح کاری اختیار کرتے ہیں اور ہرایک فرقہ کو سچائی کا ہی سرٹیفکیٹ دیتے ہیں۔ خدا کے لئے یک رنگ ہوجانا ان کی عادت کہاں ہوا کرتی ہے خدا کی وحدانیت اور عظمت کا کب وہ کچھ دھیان رکھا کرتے ہیں۔ ان کو اس سے غرض کیا ہوتی ہے کہ ناحق